بنگلورو۔7؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک کل جماعتی وفد دہلی لے جایا جارہا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر مرکزی حکومت سے 4700 کروڑ روپیوں کی مدد مانگنے کیلئے یہ وفد وزیراعظم مودی سے نمائندگی کرے گا۔ آج اپنی ہوم آفس کرشنا میں مختلف محکموں کی پیش رفت کے جائزہ کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے سدرامیا نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ 9 دسمبر کو کل جماعتی وفد سے ملاقات کیلئے دفتر وزیر اعظم سے وقت مانگا گیا ہے، جیسے ہی وقت کا تعین ہوجائے گا کل جماعتی وفد دہلی روانہ ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی اور دیگر امور پر بھی یہ وفد وزیر اعظم سے نمائندگی کرے گا اور کرناٹک مرکز سے زیادہ سے زیادہ امداد طلب کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ خشک سالی کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرنے کیلئے کل ریاست کے تمام اراکین پارلیمان کا ایک اجلاس دہلی میں طلب کیا گیا ہے۔ میٹنگ میں اراکین پارلیمان پر بھی زور دیا جائے گا کہ کرناٹک کو زیادہ سے زیادہ امداد دلائی جائے۔ کل کی میٹنگ میں اراکین پارلیمان کو صورتحال کی سنگینی سے بھی آگاہ کرواتے ہوئے ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ اپنے اثر ورسوخ سے یہ یقینی بنائیں کہ کرناٹک کو امداد کی رقم جلد جاری کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ کل کی میٹنگ میں اراکین پارلیمان کو اس بات پر بھی متوجہ کرایا جائے گا کہ ریاست کے جن منصوبوں کیلئے مرکزی حکومت کی منظوری درکار ہے،اور کافی عرصہ سے یہ منصوبے منظوری کا انتظار کررہے ہیں ، جلد از جلد انہیں بھی منظوری دلائی جائے۔ سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے اس الزام پر کہ وزیراعلیٰ اور ان کے بعض قریبی وزراء کرپشن کے الزامات میں ملوث ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یڈیورپا کو چیلنج کیا کہ بیان بازی کرنے کی بجائے اگر ثبوت ہیں تو منظر عام پر لائیں، ورنہ غیر ضروری بیان بازی اور جھوٹ بولنے کا سلسلہ بند کردیں۔انہوں نے کہاکہ یڈیورپا کے ان بیہودہ بیانات پر وہ آئندہ تبصرہ کرنا نہیں چاہیں گے۔